بھٹکل 12 مئی (ایس او نیوز) کرناٹک سرکار کی طرف سے لاوڈ اسپیکر کے استعمال کے لئے تعلقہ انتظامیہ سے اجازت لینے کا نیا قانون لاگو کئے جانے کی اطلاع کے بعد قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح وتنظیم نے تمام مساجد کے ذمہ داران سے کہا ہے کہ انہیں نئے احکامات کو لے کر خوف اور گھبراہٹ میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
تنظیم کے جنرل سکریٹری جناب عبدالرقیب ایم جے ندوی نے بتایا کہ تنظیم کے ذمہ داران تعلقہ انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں ہے اور بھٹکل ڈی وائی ایس پی سے ملاقات بھی کرچکے ہیں، جناب عبدالرقیب کے مطابق بھٹکل ڈی وائی ایس پی بیلی ایپّا نے بتایا ہے کہ فی الحال سرکار کی طرف سے مقامی پولس یا انتظامیہ کو لاوڈ اسپیکر کے تعلق سے کوئی ہدایات موصول نہیں ہوئی ہیں۔ اس لئے کسی بھی طرح کی جلدی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ڈی وائی ایس پی نے بتایا ہے کہ جیسے ہی کوئی ہدایات موصول ہوں گی وہ تنظیم سے رابطہ کرکے معاملے سے آگاہ کرائیں گے۔
تنظیم جنرل سکریٹری نے واضح کیا کہ کسی بھی طرح کا کوئی معاملہ پیش آنے کی صورت میں مساجد کے ذمہ داران تنظیم سے رجوع ہوسکتے ہیں ، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سرکار کی جانب سے جب مقامی انتظامیہ کو ہدایات موصول ہوں گے تو انتظامیہ کے ساتھ نشست منعقد کی جائے گی اور آگے کا لائحہ عمل طئے کرکے تمام مساجد کے ذمہ داروں کو تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔
بتاتے چلیں کہ ساحلی کرناٹکا بالخصوص مینگلور ، اُڈپی، بھٹکل، کمٹہ، کاروار، سرسی وغیرہ تمام علاقوں میں رات کے اوقات میں ہی یکشاگانا کے پروگرام ہوتے ہیں اور یہ پروگرام رات کو دس بجے شروع ہوکر صبح پانچ اور چھ بجے تک جاری رہتے ہیں، یہ پروگرام بالخصوص دسمبر ماہ میں زیادہ ہوتے ہیں۔ اگر لاوڈ اسپیکروں پر رات دس بجے کے بعد پابندی لگتی ہے تو سب سے برا اثر ان پروگرام کے آرگنائز روں پر پڑنا طے ہے۔